Friday, December 28, 2018

اسدالدین اویسی!زمانہ یادرکھے گا تری جرأت کے افسانے

*اسدالدین اویسی!زمانہ یادرکھے گا تری جرأت کے افسانے

از:   ظہارالحق اظہرؔقاسمی بستوی
استاذ : مدرسہ عربیہ قرآنیہ اٹاوہ،یوپی

قطع نظراس کے کہ مجلس اتحادالمسلمین کے صدراور حیدرآباد کے ایم پی بیرسٹراسدالدین اویسی سیاست میں کتنے کامیاب ہیں اورسیاست میں وہ کس حد تک آگے  جائیں گے لیکن ان کی جرأت ،عزم واستقلال،ان کے انداز تخاطب ،ان کی عالی ہمتی اور بے خوفی کوبے اختیار سلام کرنے کو جی چاہتاہے کہ اللہ تعالی اس گئے گذرے عہدمیں بھی ایسے جواں مردوں کو رکھے ہوئے ہیں جو حق کی بات ظالموں کے سامنے کہنے میں کسی طرح کی جھجھک اور عار محسوس نہیں کرتے اور نبی ﷺ کے قول ’ افضل الجھاد کلمۃ حق عند سلطان جائر‘کہ سب سے عظیم جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہہ دیناہے‘کے صحیح مصداق ہیں۔جنھوں نے ہرموقعے اور ہرموڑ پراسلام کا دامن تھام رکھاہے اور ملامت کرنے والوں کی ملامت کو پس پشت ڈال دیاہے۔

مثال کے طورپر تبدیلی مذہب کے عنوان پر لب کشائی کرتے ہوئےبیرسٹر محترم پارلیمنٹ میں اس طرح گویاہوتے ہیں '’یہ بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے لوگ آپ کے لوگ ہیں ہم ان سے ڈرنے والے نہیں۔ہم اپنے مذہب پرچلیں گے۔ ہمیں جتنافخر ہندوستانی ہونے پرہے اتنا فخرمسلمان ہونے پر بھی ہے۔نہ عیسائی ڈریں گے نہ مسلمان ڈریں گے۔آپ لاکھ کوشش کرلیجئے ہم اپنا مذہب تبدیل کرنے والے نہیں ہیں۔ملک کوبچاناہے ملک کومضبوط کرنا ہے تو اپنے جوکروں کو روکو،اپنے چمچوں کو روکو تب ملک بچے گا ۔شکریہ‘۔
پارلیمنٹ کے اند ر موصوف کی حق گوئی و بے باکانہ للکار آئے دن مشاہدہ میں آتی رہتی ہے۔ اور ہندوستان کا ایک بڑا طبقہ آپ کے خیالات وافکار کو اپنی ترجمانی سے تعبیرکرتاہے۔

رجت شرماکے ساتھ انٹرویومیں یوں کہتے ہیں’ملک سے ہمارانہ کوئی جھگڑا ہے اور نہ ہوگا ان شاء اللہ تعالی۔ یہ ملک ہمارا تھاہمارا ہے اور ہمارارہے گا۔اس ملک کیDiversity (تنوع) ہی اس کی طاقت ہے۔ ایک لڑکی کے اس سوال پر کہ سارے دہشت گرد مسلمان ہی کیوں ہوتے  ہیں کے جواب میں نہایت سادگی کے ساتھ جواب دیتے ہوئے یوں لب کشاہوتے ہیں’ مہاتما گاندھی کو جس نے مارا وہ مسلمان تھا کیا؟ اندرا گاندھی کو جس نے مارا وہ مسلمان تھاکیا؟بابری مسجد کو جس نے شہید کیاوہ مسلمان تھا کیا؟دہلی کی سڑکوں پر سکھوں کی گردنیں کاٹنے والے مسلمان تھے کیا؟گجرات کے گلی چوں میں لوگوں کو قتل کرنے والے مسلمان تھے کیا؟ میری بہن !میں آپ سے گذارش کررہاہوں کہ آپ ایسامت سوچئے۔برائی برائی ہوتی ہے  اس کو آپ مذہب کے نقطہ نظر سے مت دیکھئے۔ماوواد سے ہماراکیاتعلق ہم تو ہر تشد د کی مذمت کرتے ہیں‘ ۔ یا دارالسلام کے جلسے میں یہ کہناکہ’ اصل گھرواپسی تو اسلام کی طرف آنا ہے کیوں کہ ہربچہ فطرت اسلام پرپیداہوتاہے‘۔ جس کی وجہ باطل عناصر میں خوب کھلبلی مچی.
موصوف کے روز مرہ کے ٹی وی ڈبیٹ اور انٹرویو کو دیکھ کر بے اختیار دعانکل جاتی ہے کہ اسد! اللہ تجھے سلامت رکھے۔ تو اس وقت ہندوستانی مسلمانوں  کا جانباز اور حقدار ترجمان ہے۔تو نے ہرجگہ اور ہرموقع پر اسلام اور اس ملک کے دستور کی وکالت کی ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر کی ہے۔

تین طلاق کےمخالف 28 دسمبر 2017 کو  پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والےپہلے  ٹرپل طلاق بل  کا اسدالدین اویسی نے جس ہمت وپامردی اور دلائل وبراہین کے  ساتھ رد کیاتھاوہ قابل دید وقابل ملاحظہ ہے۔انھوں نے خوب جم کرمخالفت کی اور دلائل وبراہین سے مدلل گفتگو کی اور بہرحال ان کی آواز آسمان والے کے یہاں سنی گئی اور بل راجیہ سبھا میں پاس نہ ہو پایا۔ موصوف اس دن تن تنہامورچالیے ہوئےتھے۔اور انھوں نے اپنے جلسوں میں اپنے اس  اکیلے پن کا باربار اظہار بھی کیاجس  نے ہر مرد مومن کے دل پر اثر کیا..

اور پھر آج بتاریخ 27 دسمبر 2018 کو اسدالدین اویسی نے جس طرح سے بل کو مسترد کیا کی اس کی داد دیے بغیر نہیں رہاجاسکتا۔ بیرسٹر نے آئین ہند کا حوالہ دے کر اسے مذہبی آزادی میں مداخلت قرار دیا اور کہا کہ میں ایک باپ، ایک بھائی، ایک چاچا ااور بیٹا  ہونے کے ناطے اس ایوان کے ذریعےحکومت کو بتانا چاہتاہوں کہ ہندوستان کی صد فیصد مسلم خواتین اس بل کی پرزور مخالفت کرتی ہیں اور اسے ریجکٹ کرتی ہیں۔ انہو ں نے کہاکہ آئین ہند کی دفعات 14؍15؍26؍اور 29کے تحت جو مذہبی آزادی کی گارنٹی دی گئی ہے  یہ بل ان کے خلاف ہے اس لیے میں اس کی مخالفت کرتا ہوں۔ انھوں نے اپنے نرالے اور پرجوش انداز میں آگے کہاکہ :اس حکومت کی وہ کون سی مجبوری ہے کہ یہ  ہم جنسی اور زناکاری کو جرم کی فہرست سے نکال دیاگیاپر آپ اس کی  مخالفت نہیں کرتے لیکن آپ ٹرپل طلاق کے خلاف ہیں اور اسے قابل سزاجرم اس لیے سمجھتے ہیں  کیو ں کہ یہ مسئلہ ہم سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ قانون آئین کے خلاف ہے اورمختلف قوانین اور نقطہائے نظر کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر قانون کو کچھ قانون کی کتابیں پڑھنے کا بھی مشورہ دے ڈالا تاکہ انھیں کچھ مبادیات قانون معلوم ہو جائیں.. سابری مالامندر کا حوالہ دیتے ہوئےجب وہ یہ سوال  پوچھ رہے تھے تو منظر دیدنی  تھا:کہ کیاآپ کا عقیدہ تو آپ کا ہوگااور میراعقیدہ میرانہیں ہوگا؟ انھوں نے یہ سوال بھی چست کرنے میں کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھاکہ   ہمارے ملک میں طلاق کے قانون میں اگر کوئی ہندو طلاق دیتا ہے تو اسے ایک سال کی سزا کیوں ہے، اور مسلمان کو تین سال کی سزا کیوں؟ کیا یہ آرٹیکل 14 کا غلط استعمال نہیں ہے؟ انہوں نے اس موقع پر ایم جے اکبر کے خلاف گزشتہ دنوں چھڑی می ٹو مہم کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کے ان کے ساتھ نرم رویے کا بھی خوب استہزاء کیا اور مرکزی وزیر مختار عباس نقوی پر  بھی طنز کسا۔ انہوں نے ببانگ دہل یہ بھی کہاکہ طلاق کے تعلق سے حکومت کے ارادے نیک نہیں ہےاور یہ بھی کہا کہ  جب سپریم کورٹ نے کہدیا ہے کہ اس سے شادی نہیں ٹوٹتی تو پھر آپ کس بات کی سزا دے رہے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ ٹرپل طلاق بل کامقصد صرف  مسلمانوں کو پریشان کرنا ہے اور انہیں جیل بھیجوانا ہے۔ انہوں نے سائرہ بانو کے تعلق سے کہا کہ وہ تو بی جے پی میں چلی گئی آپ کی حکومت نے اس کےلیے کیا کیا؟ شادی ایک معاہدہ ہے کو مبرہن کرتے ہوئے مسٹر اویسی نے نہایت شاندار تجویز پیش کی۔حکومت کے اٹارنی  جنرل کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کے برے عزائم کو بے نقاب کیا۔

موصوف اویسی جی نے اپنی گفتگو میں ایوان زیریں اندر قرآن کے حوالے سے باتیں پیش کرنے والوں اور والیوں کو دعوت توحید وختم نبوت بھی دے ڈالا۔اورپھر اختتام تو اتناشانداررہا کہ بس کیا پوچھنا۔انھوں نے اخیرمیں کہاکہ میڈم! میں آپ کے واسطے سے حکومت کو یہ بتاناچاہتاہوں کہ آپ کے قانون سے ، آپ کے دباؤ سے ، آپ کے زور سے،آپ کے جبر سے ہم اپنے مذہب   کو نہیں چھوڑیں گے۔جب تک دنیاباقی رہے گی ہم مسلمان بن کر شریعت پر چلتے رہیں گے ۔ ہم اس بل کو ریجیکٹ کرتے ہیں۔
واہ اویسی صاحب! آپ نے اس ایوان بھی اسلام کی حقانیت کا ببانگ دہل اعلان کیا اور واقعی حق اداکردیا۔ اور مجھے اور مجھ جیسے کروڑوں لوگوں کا یہ یقین ہے کہ جب تک آپ جیسے باہمت اور سمجھدار اور غیور مسلمان اس ملک میں اور ایوانوں میں موجود رہیں گے اسلام کی آواز کو دبایانہیں جاسکے گا ۔ ان شاء اللہ
دعاگو ہوں کہ اللہ آپ کو قدم بقدم ترقی دے اور ہندوستان کی سیاست کے آسمان کا چمکتاماہتاب اور دمکتاآفتاب بنائے اور ہرطرح دشمنوں کے شرورفتن سے محفوظ رکھے۔اقبال مرحوم نے آپ ہی جیسے لوگوں کے لیے کہا تھا:

آئین جوان ِمرداں حق گوئی وبے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

کسی  اورشاعر کے یہ اشعاربھی  ایسے ہی جانبازوں اور باہمت وباغیرت لوگوں کے لیے کہے گئے ہیں:

سفینہ جو اپنا جلانے چلا ہے
وہ دین نبی کو بچانے چلا ہے
اسے دیکھ کر تو فرشتے ہیں حیران
وہ اپنے لہو میں نہانے چلا ہے
وہ راہ خدا میں پلٹ کے نہ دیکھے
وہ سب کچھ تو اپنا لٹانے چلا ہے
وہ خالد کا وارث وہ طارق کا ثانی
سبق وہ شجاعت کا پڑھانے چلا ہے
بہا کر لہو اپنے قلب و جگر کا
وہ گلشن نبی کا سجانے چلا ہے
بہت ہیں پریشاں یہ ظالم یہ جابر
وہ ظلم و ستم کو مٹانے چلا ہے
عزائم ہیں اس کے پہاڑوں سے اونچے
وہ مغرور سر کو جھکانے چلا ہے
جو بندوں کو رب سے نہ ملنے کبھی دے
وہ دیوار باطل گرانے چلا ہے
وہ قرآن کا داعی وہ دین کا سپاہی
خلافت کا منظر دکھانے چلا ہے
ستارے بھی تکتے ہیں راہیں جو اس کی
حجازیؔ بھی پلکیں بچھانے چلا ہے

Thursday, December 27, 2018

سیتامڑھی ریلوے جنکشن سے تھوڑے فاصلہ پر محمد سہیل کی لاش ملی

سیتامڑھی ریلوے جنکشن سے تھوڑے فاصلہ پر محمد سہیل کی لاش ملی

سیتامڑھی ( محمد ارمان علی)

آج صبح سیتامڑھی جکشن سے محض کچھ سو میٹر کے فاصلہ پر مہسول ریلوے پٹری پر ایک نوجوان شخص کی لاش پڑی ہوئی ملی اطلاع کے مطابق جس کی شناخت کی گئی ہے وہ باجپٹی بلاک حلقہ کے حسن پور برہروا مرول کا رہنے والا ہے ملی اطلاع کے مطابق محمد سہیل اپنے نانا اور ماموں کے ساتھ سیتامڑھی میں رہ رہا تھا جو ڈاکٹر آلوک کمار کے یہاں کمپاؤنڈری کرتے تھے بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ کل وہ اپنے ڈیوٹی پر بھی نہیں گیا تھا مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اتنی بے رحمی سے کس نے مارا محمد سہیل کو آخر اس قتل کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے یہ تمام سوالات کا پتہ تو اس وقت چلے گا جب پولس تفتیش کریں گی بتایا جاتا ہے کہ مقتول کی شناخت چھپانے کے لئے چہرہ سمیت جسم پر تیزاب چھڑک دیا گیا ہے, لاش جی آر پی پولس کے حوالے گئی تھی  جس کو پوسٹ مارٹم کے بعد اس کے گاؤں میں تدفین کردیا گیا ہے پولس اس معاملہ کی تفتیش کررہی ہے۔

Selfi

Qamre Alam Founder

بیٹی ہے تو جان سے مار دیں کیا ؟

بیٹی ہے تو جان سے مار دیں کیا ؟
ساگرتیمی
ریلوےاسٹیشن پر گاڑی کھڑی ہوئی تو پورے اسٹیشن پر میرے سوا صرف ایک بزرگ اترتے ہوئے نظر آئے ۔ دیہات کا اسٹیشن اور شام آٹھ بجے کی ٹرین ! یہ کوئی تعجب خیزبات نہیں تھی ۔ اسٹیشن کے سامنے والے حصے میں جنریٹر کی روشنی تھی ، پچھلے حصے میں اسی کی روشنی چھن چھن کر آجارہی تھی ورنہ باضابطہ ادھر کوئی بلب روشن نہیں تھا ، مجھے اسی پیچھے  طرف سے گاؤں کی راہ لینی تھی ، گرمی کا موسم تھا اور آسمان پر چاند مکمل ہو گیا تھا سو روشنی مدھم ضرور تھی لیکن حسین کم نہیں تھی ، ریلوے اسٹیشن سے نکلتے ہی کھیتوں کا سلسلہ تھا ، پیڑ پودے تھے ، ان سے جانی پہچانی آوازيں اور خوشبو نکل  رہی تھی اور پورے وجود کو مہکائے جارہی تھی ۔ میں نے دیکھا کہ بزرگ بھی  میری ہی طرف بڑھ رہے ہیں سو قدموں کی تیزی کو سستی میں تبدیل کرتے ہوئے اچھا محسوس ہوا ، بزرگ بھی جیسے تیز  قدم اسی لیے بڑھا رہے تھے کہ مجھ تک جلد پہنچ سکیں ، یوں وہ جلد ہی مجھ سے آملے ۔
کہاں جائیں گے بابو ؟ ایک ٹوٹی ہوئی تھکی ہوئی آواز سماعت سے ٹکرائی ۔
چچا ، میں تو رام پور کا رہنے والا ہوں ، وہیں جانا ہے ۔ آپ کہاں جائیں گے اور اس وقت کہاں سے آرہے ہیں ؟
چچا : بابو ، شہر گیا تھا ، لوٹتے لوٹتے دیر ہوگئی ، بارہ بجے والی ٹرین چھوٹ گئی سو پانچ بجے والی پکڑی ، اب جاکے اس نے پہنچایا ہے ۔ رام پور تو بعد میں آئے گا ، پہلے تو ہماری بستی آئے گی ، ہم داؤد نگر کے ہیں ۔
میں : اچھا ، داؤد نگر کے ہیں آپ ؟ ما شاءاللہ ، لیکن اس بڑھاپے میں اس رات کو سفر کرتے آپ کو احتیاط برتنی چاہیے ۔
چچا : بابو ، زندگی جب اپنے بوجھ تلے دباتی ہے تو اس وقت احتیاط وحتیاط سے کچھ نہیں ہوتا ، آپ کو اس کے ساتھ چلنا ہی پڑتا ہے ۔بیٹیاں بڑی ہوگئی ہیں ، ایک کی شادی کی تھی ، اللہ غارت کرے ، اس نے تنگ تنگ کر کرکے بچی کو جیسے زندہ لاشہ بنادیا ، پچھلے چار سالوں سے گھر پر بیٹھی ہوئی ہے ، نہ اس کے مطالبے پورے ہوتے ہیں اور نہ وہ اس ابھاگن کو اپنے گھر لے جانے کو تیار ہے ۔ دوسری بڑی ہی ہی نہیں ہوئی ، زیاد ہ ہی بڑی ہوگئی ہے ،  اس کی شادی کی عمر نہ گزر جائے اس ڈر سے رہا سہا سرمایہ بیچ کر ایک جگہ رشتہ لگایا ہے ،اسی سلسلے میں شہر گیا تھا ، فرنیچر ، زیور وغیرہ کے سلسلے میں ۔
میں : او ہو ، یہ تو ہمارے سماج کا بڑا مسئلہ ہے چچا ۔ اللہ خیر کرے۔
چچا : مسئلہ ہے نہیں بابو ، ہم نے بنا لیا ہے۔ اب دیکھیے کہ آپ ویسے توکتنے مہذب اور سمجھدار لگ رہے ہیں ، دل کہتا ہے کہ آپ اپنی شادی کریں گے تو کچھ بھی نہیں لیں گے لیکن عقل سمجھاتی ہے کہ ایسے لوگ ہی تو لے رہے ہیں جن سے توقع نہیں رہتی ۔میرا پہلا داماد جس نے میری بیٹی کو میرے گھر بٹھایا ہوا ہے ، وہ بھی باتیں بہت اچھی کرتا ہے ۔
میں : ( میرے اندر کا انسان ہلا ہوا تھا ، کچھ ہی دن پہلے میری شادی کی بات ہوئی تھی اور مجھے ایک ٹاٹا سومو کے ساتھ شہر میں ایک فلیٹ بھی مل رہا تھا ) چچا ، لیکن لڑکی والوں کا بھی قصور ہے ۔
چچا : ہاں بابو ، ان کا قصور ہی تو ہے کہ انہوں نےبیٹی کو جنم دیا ، اس کو پالا پوسا ، بڑا کیا ، ورنہ عقلمند ہوتے تو پیدا ہوتے ہی درگور کردیتے جیسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کردیا کرتے تھے ۔ ( چچا کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے ، ہم دونوں کے بیچ تھوڑی دیر سناٹا رہا  پھر وہ گویا ہوئے ) بابو ، برا مت مانیے گا ، درد اتنا زیادہ ہے کہ کنٹرول نہیں ہوتا ، کہیں بھی چھلک جاتا ہے ۔
میں : نہیں چچا ، ایسی بات نہیں ، سچی بات تو یہ ہے کہ میں خود بہت شرمندہ ہوں ، اللہ آپ کا غم غلط کرے ۔
کچھ دیر بعد ان کی بستی نظر آنے لگی ، ان کے چلنے کی رفتار مزید تیز ہوگئی اور گفتگو نے ایک اور رخ لے لیا ؛
چچا : بابو ، وہ دیکھیے ہماری بستی بھی آہی گئی ، ایسا کیجیے کہ رات غریب خانے پر ہی رک جائیے ، کھانا ہمارے ساتھ کھائیے ، صبح ناشتہ کرکے نکل جائیے گا ، رات ہورہی ہے اور آپ کو ابھی اور بھی آگے جانا ہے ۔
میں : بہت شکریہ چچا ، لیکن میں چلا جاؤں گا ، آپ پریشان نہ ہوں ، راستہ ماشاءاللہ مامون ہے ۔
چچا : بابو ، راستہ تو ماشاءاللہ مامون ہے لیکن ہمارا بھی تو کچھ فرض بنتا ہے ۔
  ہم ان کے دروازے پر پہنچے تو دروازہ کھلنے میں کوئی تاخير نہ ہوئی  جیسےگھر کے افراد انتظار ہی میں ہوں ۔ انہوں نے مجھے باہر والے کمرے میں بٹھایا ، پانی لاکر دیا اور خود اندر چلے گئے ۔ پندرہ بیس منٹ کے اندر وہ باہر آئے ، کھانا دسترخوان پر لگا دیا گيا تھا ۔کھانا سادہ تھا ، روٹیاں ، سبزی ، ایک انڈا ، ایک کٹورے میں دودھ اور ایک طشتری میں چٹنی لیکن دسترخوان سلیقے کی گواہی دے رہا تھا ۔ نہ جانے کیوں ارادے کے بر عکس میں نے بھرپیٹ کھانا کھایا ، چچا نے میزبانی بھی پوری محبت سے کی ۔
بستر پر آنے کےبعد نیند میری آنکھوں سے دور تھی ، راستے کی باتیں مجھے پریشان کررہی تھیں ، میں کروٹیں بدل رہا تھا تبھی اندر سے کچھ کمزور سی غیر واضح آوازیں کانوں سے ٹکرائیں جیسے کوئی کہ رہا ہو ، راحت کی اماں ، تم ایسی باتیں کیوں کرتی ہو ، اللہ کی بندی ، ہمیں تو اللہ کا حکم ماننا ہی ہوگا نا ، تم کیا کہنا چاہتی ہو ، ارے زمینیں بگ گئیں تو ہم اپنی بیٹیوں کو مار دیں ، آخر اس میں ان کا کیا قصور ہے ، تم کیا چاہتی ہو انہیں زندہ جلادیں ، جاہلیت کے زمانے کی طرح انہیں مار دیں ۔ پگلی ، یہ بھی آزمائش ہے ، اللہ سے دعا کرو کہ اچھے اچھے سےبچی رخصت ہو جائے ، اس کے بعد ایک فرحت رہ جائے گی تو اللہ اس کا بھی کوئی نہ کوئی انتظام کر دے گا ۔
  نہ جانے کب مجھے نیند آگئی ، مجھے پتہ نہ چلا ، صبح فجر کے وقت چچا نے آواز دی تو نیند کھلی ، ہم نے نماز باجماعت ادا کی ، واپس گھر آئے تو بسکٹ چائے سے انہوں نے تواضع کیا اور ناشتہ کھاکر جانے پر اصرار کیا ۔ میں نے ان کا شکریہ اد اکیا اور اجازت طلب کی انہوں نے اجازت دے دی ۔
ہم جب گھر پہنچے تو گھر پر خوشیوں کی بہار تھی ، ہماری ہونے والی سسرال سے یہ خوش خبری آئی تھی کہ ٹاٹا سومو اور فلیٹ دونوں کی چابی لے کر میرے ہونےو الے چھوٹے سالے صاحب آج ہی شام پہنچنے والے ہیں ۔ گھر پر جیسے ہر آدمی خوشیوں میں نہا رہا تھا ، میں نے ناشتہ کرنے کے بعد آرام کرنا چاہا لیکن طبیعت بھاری بھاری سی ہی رہی ۔ زندگی میں پہلی بار کسی کی مصیبت کو اتنے قریب سے دیکھا  اور محسوس کیا تھا ۔
شام کو جب میر ے ہونےو الے چھوٹے سالے صاحب چابیاں لے کر پہنچے تو ان کا شایان شان استقبال کیا گيا ، ہمیں بھی گھر کے لوگوں نے رشک بھری نگاہوں سے دیکھا ، پھوپھیوں اور خالاؤں نے بلائیں لیں اور بہنیں بار بار دیکھ دیکھ کر مسکراتی رہیں جب کہ بھابیاں چھیڑ کرنے میں لگی ہوئی تھیں لیکن اپنا تو اندر کا سکون ہلا ہوا تھا ۔
رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی کے لیے ہم ہی اپنے سالے کے ساتھ باہر نکلے ، ٹاٹا سومو اور فلیٹ سے ہوتے ہوئے گفتگو شادی کے بقیہ اخراجات کی طرف مڑگئی اور اندازہ ہوا کہ اس میں نہیں بھی تو پچاس ساٹھ لاکھ کا خرچ آئے گا ۔سالے صاحب بہت سنبھل کر گفتگو کررہے تھے لیکن ان کا درد اور اندر کا زخم باہر آہی جارہا تھا ۔ ان کی خوشی میں اداسی اور مسکراہٹ میں بے بسی مجھے صاف نظر آرہی تھی ۔ اب کہ میں نے ایک فیصلہ لیا اور ان سے کہا :
بھائی صاحب ،  آپ لوگوں کو بھی کتنی پریشانی ہورہی ہوگی نا ؟
سالے صاحب : ارے نہیں ، آپ کیا بات کررہے ہیں ، شادی میں تو یہ سب کچھ ہوتا ہی ہے ۔۔
میں : نہیں ، میں سمجھ سکتا ہوں کہ کیا پریشانی ہوتی ہوگی ، رات ایک ماں تنگ آکر اپنی بیٹی کو مار دینا چاہتی تھی ، میں نےانہيں پورا واقعہ سنایا اور ان سے کہا : اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو میں بغیر کسی چيز کے آپ کی بہن سے نکاح کرلوں اور ہم دونوں مل کر انہیں پیسوں سے اس بزرگ کی بیٹیوں کی شادی کرادیں ۔
سالے صاحب :جناب ، آپ نے دل جیت لیا ، مجھے نہ معلوم کیوں ، آپ کے اندر اول روز سے ایک نہایت ہمدرد آدمی دکھ رہا تھا ، آج آپ نے میرے گمان کو صحیح ثابت کردیا ۔
دوسرے دن سالے صاحب کے ساتھ میرے ہونےوالے سسر بھی تھے اور ہم تینوں بزرگ کے دروازے پر تھے ۔ ہماری گاڑی ان کے دروازے پررکی تو پہلے تو وہ گھبرائے اور پھر جب مجھ پر نظر پڑی تو بہت خوش ہوئے ۔
ہمارے ہونے والے  سسر نے ان سے جو بات کہی وہ تو ہم میں سے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی : جناب ، آپ کی بیٹیاں بڑی پیاری اور مہذب ہیں ، شادی کی بات جہاں چلی ہے وہاں ضرور کیجیے ، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں ، وہ بچیاں آپ ہی کی نہیں ہماری بھی ہیں اور اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو چھوٹی والی بیٹی سے ہمارے بیٹے کا رشتہ قبول کیجیے ۔
چچا کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ہم اپنے سالے سے گلے مل کر رورہے تھے ۔ اللہ قسم زندگی میں ایسا سکون کبھی نہیں ملا تھا ۔
عابد کی داستان سن کر افسر نے بس اتنا کہا : یار ، یہ تو کہانی لگتی ہے ، کیا واقعی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ایسے اقدامات کرسکتے ہیں ۔ ایسے کاش ہم سمجھ سکتے ۔۔

Wednesday, December 26, 2018

प्रेरक, समन्वयकों ने महामहिम राष्ट्रपति से किया इच्छा मृत्यु की मांग

प्रेरक, समन्वयकों ने महामहिम राष्ट्रपति से किया इच्छा मृत्यु की मांग

महामहिम राष्ट्रपति महोदय!
 समूर्ण साक्षरता अभियान के तहत केंद्र  प्रायोजित अत्यंत महत्वाकांक्षी योजना  "साक्षर भारत मिशन" कार्यक्रम का  31 मार्च 2018  के प्रभाव से कार्यावधि विस्तार रोक दिए जाने के कारण जन शिक्षा निदेशक बिहार द्वारा प्रेरक, समन्वयक को अपना पक्ष रखने का मौका दिए बिना असंवैधानिक रूप से कार्यमुक्त का एकतरफा तुगलकी फरमान से 19000 कर्मी बेरोजगार बन सड़क पर जिल्लत और जलालत की जिंदगी जीने को विवश है।
 राशि  उपलब्ध होने के बावजूद निदेशक जन शिक्षा द्वारा  28 माह का कार्ययावधि का मानदेय /वेतन का भुगतान नही किया जा रहा है  अर्थाभाव के कारण घर घर में शिक्षा का अलख जगाने वाले प्रेरक समन्वयक शिक्षा कर्मी के बच्चो की पढ़ाई बाधित है। समुचित इलाज के अभाव में अपने बीमार परिजन का इलाज नहीं करवा पाते है  ।भुखमरी के शिकार कई प्रेरक समन्वयको की असामयिक मृत्यु भी हो गई है।किन्तु राज्य सरकार की संवेदना नहीं जगी है।
 महामहिम ,
 ये वही प्रेरक समन्वयक है जिन्होंने पूरी निष्ठ लग्न व् ईमानदारी पूर्वक अपने धारित पदों की जिम्मेवारियों का निर्वहन करते हुए सरकार के अन्य सामाजिक कल्याणकारी योजनाओ को सफल बनाने में अग्रणी भूमिका निभाया है।इनके प्रयास से साक्षरता दर में सर्वाधिक वृद्धि के लिए बिहार को राष्ट्रीय अवार्ड मिला।
विश्व विख्यात मानव श्रृंखला का  जिला प्रखण्ड एवम् पंचायतो में नोडल एजेंसी का काम किया तथा बिहार का नाम लिम्का बुक ऑफ़ रिकार्ड में दर्ज करवाया।
मद्य निषेध अभियान ,बाल विवाह एवम् दहेज़ प्रथा उन्मूलन अभियान,मतदाता जागरूकता अभियान ,स्वच्छता अभियान,शिक्षा का हक़ अभियान व्यापक प्रचार प्रसार कर सफल बनाया।
बिहार  में राज्य सम्पोषित अक्षर आँचल योजना के अनुश्रवण अनुसमर्थन एवम् प्रबन्धन कार्य से भी समन्वयको को हटा दिया गया है जबकि योजना अभी भी अनवरत चल रहा है।
 महामहिम, 
 माननीय मुख्यमंत्री बिहार, शिक्षा मंत्री बिहार मुख्य सचिव बिहार,प्रधान सचिव शिक्षा विभाग बिहार एवम् निदेशक जन शिक्षा बिहार को विभिन्न कार्यक्रमो के माध्यम से प्रतिनिधि मण्डल अपनी मांगो  के समर्थन में ज्ञापन देकर सेवा नियमित करने का अनुरोध किया है।
महामहिम,
 साक्षर भारत में विगत 10 वर्षो से लगातार काम करते ये कर्मी अपने जीवन का स्वर्णिम काल साक्षरता अभियान कार्यक्रम न में व्यतीत किया ।अब अधिकाँश कर्मी की उम्र सीमा समाप्त हो गई है किसी दूसरी सरकारी सेवा में नहीं जा सकता ऊपर से पारिवारिक जिम्मेवारियां भी बढ़ गई है। 
 जन विरोधी सामन्तवादी नौकरशाह विनोदानंद झा ने पूर्वाग्रह से ग्रसित होकर दुर्भावनावश साक्षर भारत के   कर्मियों प्रेरको समन्वयको  की सेवा नियमित करने हेतु पूर्व मुख्य सचिव की अध्यक्षता में गठित उच्च स्तरीय समिति में अनुसंशा हेतु नमो की सूचि नहीं भेजा।
 
 साक्षर भारत कर्मी संघ  निरन्तर माननीय मुख्य मन्त्रीजी को त्राहिमाम सनदेश भेजकर पीड़ित कर्मीयो की सी समायोजित कर जान माल की सुरक्षा की गुहार लगाता रहा है किन्तु प्रेरको समनवयको की लगातार उपेक्षा होती रही है। 
        अंत में नैसर्गिक न्याय की प्रत्याशा में महांमहिमजी से सादर अपील है की जनहित में अमानवीय तरीका से कार्यमुक्त बिहार के 19000 प्रेरक समन्वयको की सेवा समायोजित कराने की असीम कृपा किया जाय ।नहीं तो भूख से तड़प- तड़प कर मरने से अच्छा है इन प्रेरक समन्वयको को इच्छा मृत्यु का आदेश दे  दिया जाय।
    नागेन्द्र कुमार पासवान ,मुख्य कार्यक्रम समन्वयक
साक्षर भारत मिशन सीतामढ़ी बिहार, राष्ट्रीय संयोजक 
अखिल भारतीय साक्षरता कर्मी महासंघ,सह:~महामन्त्री
 भारतीय मजदूर संघ सीतामढ़ी बिहार 9473088097
       

Friday, December 21, 2018

सीतामढ़ी सीता कुंज में

नगर पालिका मिडिल स्कूल भवदेपुर सीतामढ़ी में 20 दिसम्बर 2018 से डी एल एड परीक्षा का आयोजन

नगर पालिका मिडिल स्कूल भवदेपुर सीतामढ़ी में 20 दिसम्बर 2018 से डी एल एड परीक्षा का आयोजन किया जा रहा है।मालूम हो कि NIOS द्वारा अप्रशिक्षित शिक्षकों को ऑनलाइन प्रशिक्षण दे रही है ये तीसरा EXM है।

Tuesday, December 18, 2018

ठंड को देखते हुए सीतामढ़ी में स्कूल का संचालन 10 से 3 बजे तक किया गया

बिहार स्टूडेंट् क्रेडिट कार्ड योजना

ब्रेकिंग न्यूज-बिहार स्टूडेंट क्रेडिट कार्ड योजना,कुशल युवा कार्यक्रम,मुख्यमंत्री स्वयम सहायता  भत्ता योजना का लाभ जिले के अधिक से अधिक युवाओ को मिले, इसको लेकर डीएम डॉ रणजीत कुमार सिंह काफी गंभीर है।उन्होंने सभी संबंधित पदाधिकारियो को निर्देश दिया है कि कल दिनाँक 7-12-2018 शुक्रवार से डीआरसीसी सीतामढ़ी में कैम्प लगाकर सभी पात्र युवाओ को लाभ दिलाये।उन्होंने लगातार चार-पांच दिनों तक कैम्प लगाने का निर्देश दिया है।डीएम ने जिले के सभी पात्र छात्र-छात्राओं से अपील किया है कि इस कैम्प का अवश्य लाभ उठाएं। गौरतलब हो उच्च शिक्षा के लिए एजुकेशन लोन के तहत  राज्य सरकार के निगम के माध्यम से अधिकतम चार लाख रुपये की राशि दी जाती है।महिला एवम दिव्यांग आवेदकों के लिए शिक्षा ऋण पर मात्र एक प्रतिशत ब्याज लगता है,जबकि अन्य के लिये ब्याज चार प्रतिशत लगेगा।विशेष जानकारी के लिए डीआरसीसी के   काउंटर पर संपर्क करे। टॉल फ्री नंबर 18003456444 अथवा 9102386001,8434045882 पर सम्पर्क करें।-डीपीआरओ

Monday, December 17, 2018

वोटर लिस्ट का क्रमांक और अन्य जानकारी प्राप्त करें

निम्न लिंक के माध्यम से आप अपने वोटरलिस्ट का क्रमांक और अन्य जानकारी प्राप्त कर सकते हैं।

https://electoralsearch.in/##resultArea

आपके खिलाफ थाने में किसी ने की है झूठी शिकायत तो तुरंत करें ये काम-नहीं गिरफ्तार करेगी पुलिस

आपके खिलाफ थाने में किसी ने की है झूठी शिकायत तो तुरंत करें ये काम-नहीं गिरफ्तार करेगी पुलिस
Parihar :- अब अक्सर लोग निजी दुश्मनी निकलाने के लिए थाने में झूठी शिकायत कर देते हैं। यदि किसी ने आपके खिलाफ झूठी FIR कर दी है तो आप उसे चैलेंज कर सकते हैं। ऐसे में आपकी दलीलें सही रहीं तो आपको हाईकोर्ट के जरिए राहत मिल सकती है। हम बता रहे हैं कोई झूठी एफआईआर कर दे तो उससे कैसे बचा जाए। इस बारे में हाईकोर्ट एडवोकेट संजय मेहरा का कहना है कि भारतीय दंड संहिता की धारा 482 के तहत इस तरह के मामलों में चैलेंज किया जा सकता है। कोर्ट ने याचिकाकर्ता की दलीलें सही पाईं तो रिलीफ मिल सकता है।

क्या है धारा 482 :  किसी ने आपके खिलाफ झूठी एफआईआर करवाई है तो इस धारा का आप इस्तेमाल कर सकते हैं। इस धारा के तहत वकील के माध्यम से हाईकोर्ट में प्रार्थनापत्र लगाया जा सकता है। इस पत्र के साथ में आप अपनी बेगुनाही के सबूत भी दे सकते हैं। जैसे आप, वीडियो रिकॉर्डिंग, ऑडियो रिकॉर्डिंग, फोटोग्राफ्स, डॉक्युमेंट्स प्रार्थनापत्र के साथ अटैच कर सकते हैं। इससे आप अपनी बेगुनाही को मजबूती से कोर्ट में रख पाएंगे।

पुलिस को तुरंत रोकना होगी कार्रवाई :
चोरी, मारपीट, बलात्कार या किसी दूसरे मामले में आपको षडयंत्र करके फंसाया गया है तो आप हाईकोर्ट में अपील कर सकते हैं। हाईकोर्ट में केस चलने के दौरान पुलिस आपके खिलाफ कोई कानूनी कार्रवाई नहीं कर सकती। इतना ही नहीं यदि आपके खिलाफ वारंट भी जारी कर दिया गया है, तब भी केस चलने के दौरान आपको गिरफ्तार नहीं किया जा सकता। कोर्ट जांच अधिकारी को जांच के लिए जरूरी दिशा-निर्देश भी दे सकती है।

तैयार करना होती है फाइल :
यदि आप इस धारा के तहत हाईकोर्ट में याचिका लगाना चाहते हैं तो पहले एक फाइल तैयार करें। इस फाइल में एफआईआर की कॉपी के साथ ही एविडेंस के जो भी जरूरी डॉक्युमेंट्स हैं, वे लगाएं। आप वकील के माध्यम से एविडेंस तैयार कर सकते हैं। आपके पक्ष में कोई गवाह है तो इसमें उसका भी जिक्र करें।

विशिष्ट पोस्ट

सामान्य(मुस्लिम)जाति के शिक्षा स्वयं सेवी(तालीमी मरकज़) को हटाने से संबंधित निर्णय को वापस ले सरकार वरना सड़क से लेकर संसद तक होगा आंदोलन :- मोहम्मद कमरे आलम

आठ वर्षों से कार्य कर रहे सामान्य मुस्लिम जाति के शिक्षा स्वयं सेवी(तालीमी मरकज़) को एक झटके में बिहार सरकार द्वारा सेवा से यह कह कर हटा दिया...