Click here online shopping

Sunday, January 06, 2019

طلاق ثلاثہ بل مسلم عورتوں کو انصاف دلانا نہیں ہندوں اکثریت کو خوش کرنا ہے

طلاق ثلاثہ بل مسلم عورتوں کو انصاف دلانا نہیں ہندوں اکثریت کو خوش کرنا ہے

مرکز کی بھاجپا سرکار مسلم عورتوں کو انصاف دلانے کے نام پر بیک وقت تین طلاق دینے کو قانونی جرم قرار دینے کے لئے پورے طور پر کمر بستہ نظر آرہی ہے اور ایوان حکومت سے پاس کرا کر قانون بنانے کے لئے بے چین وبے قرار ہے ملک کا آئین ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے بنا کر ملک میں بسنے والے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے عائلی و تمدنی مسائل میں پورے طور پر آزادی عطاء کیا اور ساری قوم ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے بناے قانون کے مطابق اپنے اپنے رسم و رواج کے مطابق زندگی گزار رہی ہے شادی و تفریق کا طریقہ تمام مذاہب میں موجود ہے اور تمام مذاہب کے ماننے والی عورتیں اپنے حقوق کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے پھر حکومت کو صرف مسلم عورتوں کو انصاف دلانے کی بے قراری کیوں پیدا ہوگئی؟کیا تین طلاق کے طریقہ کو قانونی جرم  قرار دیکر حکومت مسلم عورتوں پر عدالت کا دروازہ بند کرا دیگی بلکہ اس قانون کے ذریعے مسلم معاشرہ میں اور بھی بد امنی اور بیچینی پیدا ہوگی مطعلقہ کے شوہر کے جیل جانے کے بعد عورت اور بچوں کے نان نفقہ اور پرورش برداشت کی ذمہ دار حکومت پر ہوگی یہ سب ڈرامہ صرف اسلے کیا جارہا ہے کہ بھاجپا سرکار ہندو اکثریت کو سمجھا سکے کہ دیکھو یہ حکومت مسلمانوں کو کس طرح کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے تیار ہے اس لئے تمام ہندو سمجھ لو کہ یہ اپنی ہندو کی حکومت ہے متحد ہوکر تمام اوٹ میری جھولی میں ڈالدو تاکہ اگلی حکومت بننے کے بعد پھر دوسری کاروائی کے ذریعے مسلمانوں کو اس ملک کا دوسرے درجہ کا شہری بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے حکومت اگر ایماندارنہ طریقہ اختیار کر نا چاہتی تو اس کو ملک کے بناے ہوئے تمام مذاہب کے قانون کا معائنہ کرنا چاہئے اور تمام میں سدھار کرنا چاہئے جس مذہب میں طلاق کا طریقہ رائج نہیں ہے اور یوں ہی عورتوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے اس کے لئے مسئلہ تفریق پر قانون بنا چاہیے صرف مسلمانوں کی عورتوں کی فکر نہ کرنا چاہیے انکے اور بڑے مسائل ہیں مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی بات آتی ہے تو حکومت کہتی ہے مذہب کے نام پر ریزرویشن نہیں دیا جا سکتا ہندوستان میں بسنے والی جتنی قوم کو ریزرویشن دیا جا رہا ہے کیا اسکا تعلق مذہب سے نہیں ہے وہ تمام اقوام و برادری کسی نہ کسی مذہب سے تعلق رکھنے والی ہے حکومت کی یہ دوہری نیتی ہے اور مسلمانوں کو انکے مذہبی مسئلہ میں الجھا کر اصل مسئلہ سے اسکی توجہ ہٹائے رکھنا ہے حکومت اگر ایماندار ہے تو ملک کی تمام اقوام کے عائلی مسائل پر غور کر نے کے لئے وزارت قانون کو توجہ دلاۓ اور ملک میں بسنے والی تمام مذاہب کی عورتوں کی پریشانیوں کو دور کر کے سب کو انصاف دلائے...
      تین طلاق شریعت میں قانونی جرم نہیں ہے تین طلاق کو صرف نا پسندیدہ کہا گیا ہے اسلامی قانون کی کسی کتاب میں اس کو مجرمانہ عمل نہیں کہا گیا ہے پھر خواہ مخواہ حکومت اس کو مجرمانہ عمل قرار دیکر سزا مقرر کرارہی ہے. اسکو اسلامی شریعت میں مداخلت ہی کہا جائیگا.
    مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ببیٹھک  لکھنؤ میں اس فعل کے مرتکب کے لئے سماجی بائیکاٹ کی سزا تجویز کی گئی یہ معلوم نہیں کہ بورڈ کے ارکان کو فقہ حنفی کے کس کتاب سے سزا تجویز کرنے کا مسئلہ دستیاب ہوگیا یہ مسلم پرسنل لاء والے بتائیں نگے اور تجویز پاس کر کے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کردیا کہ ہم لوگوں نے سزا تجویز کر دی ہے اس کو منظوری دے دی جائے سپریم کورٹ نے کہدیا کہ آپ تکلیف نہ اٹھایں حکومت قانون بنا دیگی.
    اخیر میں
قوم کے سامنے مسلم پرسنل لا بورڈ کو وضاحت کرنا چاہیے کہ فقہ حنفی کے کس کتاب سے اس کو قابل سزا جرم قرار دیا اور سزا تجویز کر ڈالی اور حکومت کو قانون بنانے کی راہ ہموار کرادی اور پوری قوم کو بے چین وبےقرار کر دیا مولانا سید احمد بخاری امام جامع مسجد دہلی نے اسی طرح کی صلاح دیا ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ تمام طبقات کے علماء ودانشورں سے صلاح کرنی چاہئے جو یہ نہیں کر سکے اور یہ صورتحال پیدا ہوگئی....
جمال اصغر فیضی
سکریٹری جمعیت علماء سیتامڑھی

No comments:

विशिष्ट पोस्ट

सामान्य(मुस्लिम)जाति के शिक्षा स्वयं सेवी(तालीमी मरकज़) को हटाने से संबंधित निर्णय को वापस ले सरकार वरना सड़क से लेकर संसद तक होगा आंदोलन :- मोहम्मद कमरे आलम

आठ वर्षों से कार्य कर रहे सामान्य मुस्लिम जाति के शिक्षा स्वयं सेवी(तालीमी मरकज़) को एक झटके में बिहार सरकार द्वारा सेवा से यह कह कर हटा दिया...