Thursday, January 17, 2019

ایسا لگتا ہے مرگیا ہوں میں


🖍جمیل اخترشفیق

رات کے لگ بھگ ڈیڑھ بج رہے ہوں گے ،ہر طرف خاموشی کا پہرہ تھا سینے میں کسی انجانے خوف سے طوفان انگیز کیفیت برپا تھی، پورا جسم پسینہ پسینہ ہورہا تھا، آنکھیں بار بار خشک اور تر ہورہی تھیں،باہر  کتّوں کے رونے کی آوازیں فضا میں مزید وحشت کا زہر گھول رہی تھیں اس روز محض اس خیال سے کہ کسی طرح نیند آجائے میں نے روم کی بجلی گھنٹوں پہلے گُل کردی تھی،لیکن پھر بھی حال یہ تھا کہ صرف نیند ہی نہیں سکون تک مجھ سے خفا ہوکر ایسا لگتا تھا کوسوں دور جا چکا تھا، پتہ نہیں زندگی کبھی کبھار اس طرح سے کس جرم کا انتقام لینا چاہتی ہے، ایک عجیب سی گھبراہٹ،عجیب سی الجھن ذہن ودماغ پہ طاری تھی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے بس یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئ طاقتور آدمی میرے جسم کو پوری شدت سے گھنٹوں دباکر رکھے۔

اس نوعیت کا یہ میری زندگی کا تیسرا حادثہ تھا جو اس روز موت بن کر میرے سر پہ منڈ لارہا تھا کبھی کبھی تو یولگتا ہے جیسے میری حساسیت کسی روز میرا گلا گھونٹ کر رکھ دے گی۔

صدمات جھیلتے جھیلتے، اذیتیں براداشت کرتے کرتے انسان کا کلیجہ شاید کربناک احساسات کا گڑھا بن جاتا ہے،جی میں آیا کہ بھائیوں کو آواز دوں،امی.....امی..... پوری شدت سے پکاروں لیکن جسم کا ارتعاش  لبوں کی کپکپاہٹ، بدن کی نقاہت اجازت نہ دے سکی اور غموں کے لہو میں ڈوبے ہوئے الفاظ حلق میں ہی دب کر رہ گئے ۔

وہ رات میرے ذہن وقلب پہ کسی جلّاد کی مانند ایسے کھڑی تھی کہ پل بھر کے لیے یوں لگا جیسے میری آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گی، میں صبح کا سورج نہیں دیکھ پاؤں گا، میرے خوابوں کے وہ سارے شیش محل جو مجھے تنہائ میں بھی اندر سے بہت شاد رکھتے ہیں ٹوٹ کرزمین بوس ہوجائیں گے،عالمِ تصور میں میری نگاہیں دو دنیا کو دیکھ رہی تھیں ایک وہ دنیا جس میں مرکر رب کے حضور سب کو پیش ہونا ہے دوسری وہ دنیا  جس میں میری زندگی کا ایک ایک پل گزرا تھا، جس میں ماں باپ، فیملی رشتہ دار ،جان پہچان کے عزت دینے والے، پلکوں پہ بٹھانے والےسارے لوگ تھے، جہاں میرے مستقبل کے عزائم کی حسین عمارتیں آنکھوں میں ہمت کا نور پیدا کرتی تھیں لیکن محض اس رات موت کے تصور نے میرے ارمانوں، خواہشوں، اور آرزؤں کی بلند وبالا عمارتوں کو یوں لگا جیسے یکلخت منہدم کردیا ہو ۔مجھے ذہن وقلب پہ طاری ساری دنیاوی چیزیں بہت حقیر نظر آنے لگی تھیں،وہ سارے چہرے نظروں سے اوجھل ہوچکے تھے جنہیں میں جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہوں، بار بار نگاہوں کے سامنے صرف میرے اعمال رقص کررہے تھے اور آنکھیں بیساختہ برس پڑتی تھیں، میں پل بھر کے لیے اپنا نام، شان، خواب سب کچھ بھول چکا تھا موت کے تصور نے مجھے اتنا اندر سے بےبس کردیا تھا کہ میں نے اس بدحواسی میں ایک بار نہیں باربار اس خیال سے وضو کیا کہ چلو جب سامنے ملک الموت کھڑا ہی ہے، چند منٹوں میں بدن سے میری روح نکال لی ہی جائے گی تواعمال میں نیکیوں کا انبار نہ سہی اپنے رب کے حضور کم ازکم حالتِ وضو میں پیشی تو ہوگی ، ممکن ہے اگر رب ذوالجلال نے  میری حالت پہ ترس کھاکر نظررحمت ڈال دیا تو یقیناً نجات کی راہ آسان ہوجائے گی، مجھے یاد آتا ہے ان خیالوں میں گُم میں نے سردی کی اس کپکپاتی ہوئ رات میں بھی ننگے فرش پہ نمازِ تہجد ادا کی اور اس بات کا احساس تک نہیں رہا کہ موسم کیسا ہے، وضو کے بعد بھیگا ہوا ہاتھ پونچھنا باقی رہ گیا ہے، بدن پہ چادر رکھنا بھول گیا ہوں کچھ بھی احساس نہیں تھا بس سجدے میں سررکھ کر جی کرتا تھا آنکھوں میں جتنے آنسو ہیں آج ہی بہاکر دامنِ عمل صاف کرلیے جائیں، حالت ایسی تھی کہ اس جان لینے والی سردی میں اگر میرے سامنے برف کی چٹان ہوتی تو شاید میں اس خوف کے عالم میں بغیر کچھ بچھائے اس پہ بھی سجدہ ریز ہوجاتا اس روز ایک ہی فکر دامن گیر تھی کہ کسی طرح میرا خالق مجھ سے راضی ہوجائے، میں اس کی بارگاہ میں سرخرو ہوجاؤں اور کچھ نہیں.......!

ہائے....... میں اسی روز سے بس یہی سوچ رہا ہوں کہ محض موت کے احساس کی شدت نے مجھے اس درجہ بےبس کردیا کہ پل بھر میں سب کچھ بھول گیا، اورجب انسان کے جسم سے روح نکالی جاتی ہوگی تو مرنے والے پہ کیا گزرتی ہوگی؟

No comments:

विशिष्ट पोस्ट

सामान्य(मुस्लिम)जाति के शिक्षा स्वयं सेवी(तालीमी मरकज़) को हटाने से संबंधित निर्णय को वापस ले सरकार वरना सड़क से लेकर संसद तक होगा आंदोलन :- मोहम्मद कमरे आलम

आठ वर्षों से कार्य कर रहे सामान्य मुस्लिम जाति के शिक्षा स्वयं सेवी(तालीमी मरकज़) को एक झटके में बिहार सरकार द्वारा सेवा से यह कह कर हटा दिया...