Friday, January 11, 2019

طلبۂ مدارس کے روشن مستقبل کے لئے ایک سنجیدہ کوشش

*طلبۂ مدارس کے روشن مستقبل کے لئے ایک سنجیدہ کوشش*

*قومیت نام ہے احساس دروں کا۔اس قوم کو جینے کا کوئی حق نہیں  جہاں احساس قومیت فنا کے دہانے پر ہو!*

۲۲؍ دسمبر بروز  دوشنبہ  کو مرکزی دفتر’’تحریک فروغ اسلام  ‘‘ (نئی دہلی) میں طلبۂ مدارس کے روشن مستقبل کے لیے ایک خصوصی نشست بلائ گئ ۔ تنظیم کے بانی وصدر  حضرت قمرغنی عثمانی قادری صاحب قبلہ  کی دعوت پر کئ سماجی دردمند اور دینی شعور کے حامل مہمان علماء اور اسکالرز ،ریسرچرس اور تجربہ کار اکیڈمک شخصیتوں نے شرکت کی جن میں نبیرۂ قائد اہلسنت علامہ ارشد القادری مولانا محمود غازی ازہری،مولانا غلام غوث صدیقی ،مولانا عمران احمد ازہری،مولانا معزالدین عثمانی ازہری،مولانا مسیح اللہ ازہری ،مولانا نورالدین ازہری۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ شامل ہیں ۔
میٹنگ طلبۂ مدارس کے حوالے سے کچھ خاص اور طئے شدہ ایجنڈوں پر بغرض مشاورت بلائی گئی تھی جو  مندرجہ ذیل ہیں:
1. مدارس اسلامیہ میں اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کا نفاذ(طریقۂ کا ر ۔آئین نو ۔طرزکہن)
2. امت مسلمہ میں تعلیمی بیداری،سماجی یکجہتی اور فلاح و بہبود کی کوشش (آئین نو ۔طرزکہن اور ہماری ذمہ داریاں)
3. مختلف دینی ،ملی اور سماجی مسائل کے زودتر حل کے لیے جدید ذرائع ابلاغ جیسے ویب سائٹ،موبائل اپلیکیش ،آئی ٹی سیل اور سماجی رابطوں کی سائٹس کا منافع بخش استعمال (ضرورت واہمیت اور طریقۂ کار)
4. کیمپس سیلیکشن برائے طلبۂ مدارس (طریقۂ کار برائے ٹریننگ ،پلیس منٹ)
5. فکر معاش سے آزاد کر بعض قابل علماء کادینی خدمت کے لیے انتخاب (ممکنہ وسائل تک رسائی کے اسباب اور کام کی نوعیت پر غور)
الحمدللہ مذکورہ بالا ایجنڈوں پر نتیجہ خیز فیصلے سامنے آئے۔اور ایجنڈے کو عملی جامے پہنانے پر بے حد قیمتی اور مفید مشورے نکل کر سامنے آئے۔کچھ منصوبوں پر عملاً کام کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔کچھ منصوبوں پر مزید میٹنگیں ہونی طئے پائیں اور کچھ کی ذمہ داریاں تقسیم کی گئیں اور اس طرح سے میٹنگ خاصا کامیاب اور نتیجہ خیز ثابت ہوئی ۔
طلبہ ٔ مدارس کے حوالے سے شرکائے مجلس کے ملے جلے ردعمل کے بعد  جو تشویش سامنے نکل کر آئی ان کا خلاصہ یہ تھا کہ: ’’ طلبۂ مدارس کے اندر  خود اعتمادی ،ہدف بندی،کیریئر پلاننگ،فیوچر پلاننگ،اقتصادی پلاننگ اور اپنی قابلیت و مہارت کے تئیں سنجیدگی کا قابل تشویش حد تک گراف کمزور ہے اور وہ  اپنی خفیہ صلاحیتوں کوجلاء بخشنے کے بجائے اپنے ارد گرد کے پیشہ ور خطیبوں، شاعروں کو دیکھ کر اپنے کیریئر کا فیصلہ لے رہے ہیں۔جس کے ذمہ دار طلبہ کے ساتھ ساتھ ذمہ داران مدارس اور خود ہماری قوم بھی ہے۔شرکاء میٹنگ نے  مذکورہ مسائل کے حل کی طرف جلد از جلد عملاً پیش قدمی کرنے پر زوردیتے ہوے اس کام کو پہلی فرصت میں شروع کرنے پر زور دیا۔چوں کہ : کامیابی کا راز ہنر ہے  اس لیے تحریک اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کی ترتیب و تنظیم کا کام شروع کرچکی ہے  اور جلد ہی اس پروگرام کو لانچ کیا جانا طئے پایا ہے۔ پروجکٹ پر کام جاری ہے   اوراس کے لئے باضابطہ ایک بورڈ تشکیل دیا گیا ہے جن میں بالخصوص مولانا غلام غوث صدیقی،مولانا محمودغازی ازہری ،مولانا عمران احمد ازہری اور مولانا معز الدین عثمانی ازہری،سید سہیل ہاشمی، انجینئر سید شیراز رضوی، فیروز خان رضوی قابل ذکر ہیں۔ بقیہ دیگر ایجنڈوں پر کچھ میٹنگیں  ہوئی ہیں اور کچھ ہونا باقی ہیں ۔صدر تنظیم حضرت قمر غنی عثمانی قادری نے بتایا کہ سنی عوام کو بد عقیدگی سے بچانے لۓ "شعبہ سماجی خدمات" کے ذریعے سنی لڑکے و لڑکیوں کے رشتے فراہم کرنے کی غرض سے TFI MATRIMONIAL شروع کیا جانا ہے جس کے لئے انجینئر عمران تابانی صاحب نے ایک موبائل ایپ بنانے کا کام شروع کردیا ہے. صدر تحریک تمام منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے روزوشب کوشاں ہیں  اور امید ہے کہ چند مہینوں میں کام کا آغاز ہوجائے گا أن شاء اللہ العزیز۔
کیمپس سیلیکشن برائے طلبۂ مدارس کا پروگرام آخری مرحلے میں ہے اور  تعلیمی سال 2019-2020 کے لیے لانچ کردیا جائے گا۔اس زمن میں صدرتنظیم نے کہا کہ: سب سے پہلے مختلف مدارس کا  ہمارا تعلیمی بورڈ دورہ اور سروے رپورٹ پیش  کرے گا،پھر رپورٹ کی روشنی میں طلبۂ مدارس کے مابین بیداری مہم چلائی جائے گی اور ساتھ ہی کیپمس سیلیکش کے لئیے زمین ہموار کی جائے گی۔اس کے بعد بچو ں کا بذریعے انٹرویو سلیکشن کیا جائے گیا اور پھر آغاز میں سو منتخب بچوں کو کفالتی ٹریننگ دی جائے گی، اہم بات یہ ہے کہ ٹریننگ کے بعد چنیدہ فارغین کو خاطر خواہ تنخواہ پر پلیسمنٹ کرانا بھی تحریک کی ذمہ داری ہوگی۔میٹنگ کا آغاز نورالدین ازہری کی تلاوت،سید سہیل ہاشمی کی نعت خوانی سے  اور اختتام صدر تحریک کی دعا پر ہوا۔

No comments:

विशिष्ट पोस्ट

सामान्य(मुस्लिम)जाति के शिक्षा स्वयं सेवी(तालीमी मरकज़) को हटाने से संबंधित निर्णय को वापस ले सरकार वरना सड़क से लेकर संसद तक होगा आंदोलन :- मोहम्मद कमरे आलम

आठ वर्षों से कार्य कर रहे सामान्य मुस्लिम जाति के शिक्षा स्वयं सेवी(तालीमी मरकज़) को एक झटके में बिहार सरकार द्वारा सेवा से यह कह कर हटा दिया...